Friday, May 31, 2019

Kabhi Mayoos Mat Hona, Sawera Ho Kar Rehta Hay

🎇🌹🥀🌻🌴🎊🎆🎄🎆🎊🌴🌻🥀🌹🎇

ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ،
ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ
ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،

ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،
ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ،
ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،
ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،
ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ ،
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،
ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ ،
ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،

ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،
ﺧﺪﺍ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﻇﺮ ﺑﮭﯽ ،
ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ،
ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ،
ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ،
ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،

ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ،
ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ ،
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،

ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼﮑّﯽ ،
ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﮕﺮ ﭼﮑّﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،
ﺑﮩﺖ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﺴﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ،
ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺘﺮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ،
ﻧﯿﺖ ﺗﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﻠﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،

ﻋﻤﻞ ﻧﺎﭘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ،
ﻭﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ،
ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،

ﺩﺭﯾﺪﮦ ﺩﺍﻣﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ،
ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ،
ﺍﮔﺮ ﮐﺶ ﮐﻮﻝ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮ ،
ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﻮﺏؑ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ،
ﺯﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﮩﯿﮟ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ،
ﺍﮔﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ،

ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺠﺮ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ ،
ﮐﺪﻭ ﮐﯽ ﺑﯿﻞ ﺍﮔﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﺟﻮ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،
ﻋﻼﺝِ ﻧﺎ ﺗﻮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﭨﯿﺴﻮﮞ ﮐﻮ ،
ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺩُﮐﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﻋﺎﺻﻢؔ ﮐﺒﮭﯽ
ﺑﺠﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ،
ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،

ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﮔﺮ ،
ﭼﮭﻠﮏ ﮐﮯ ﺟﻮﺵ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻗﮩﺮ ﮈﮬﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﻮﺭﺝ ،
ﯾﮑﺎ ﯾﮏ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮨﻮﺍ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ،
ﮔﮭﭩﺎ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺗﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،

ﺗﺮﺳﺘﮯ ﺭﯾﮓ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ،
ﺍﺑﺮ ﺑﮩﮧ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﻧﻈﺮ ﻭﮦ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﺮﻡ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺩﻥ ،
ﺍﻣﺮ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
....

🎇🌹🥀🌻🌴🎊🎆🎄🎆🎊🌴🌻🥀🌹🎇

Tuesday, May 21, 2019

Ye Na Thi Hamari Qismat k Wasale Yaar Hota

🎇🌹🥀😂🌻🌴🤣🎆🤣🌴🌻😂🥀🌹🎇

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح
کوئی چاره ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وه لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازه اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وه یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ باده خوار ہوتا

🎇🌹🥀😂🌻🌴🤣🎆🤣🌴🌻😂🥀🌹🎇

Thursday, April 4, 2019

Urdu k Mashhoor Adeeb aur Shoura k Karnamay

🎆🥀🌻🎄🌴🎇🌹🏝️🌹🎇🌴🎄🌻🥀🎆

🌹🌹🌹🌹✒📚🔍🔎
✍🏻۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
*اُردُو*
پر 
*اسد الله* 
ہمیشہ 
*"غالب"* 
رہے۔
*"اقبالؒ"* 
ہمیشہ بلند اقبال
رہے۔
اور
*"فیض"* 
کا فیض جاری ہے۔
کوئی ندی ہے۔ 
کوئی دریا 
اور 
کوئی سمندر،
ہمیں ادب سے
*"شورش"* 
نہیں 
اس لیے ہم کسی کے 
*"فراق"*
میں نہیں رہتے۔
اردو 
میں 
*"میر"*   ہی نہیں
*"امیر"* 
ترین لوگ بھی ہیں۔ 
اردو
پر کسی قسم کا
داغ نہیں ہاں
*"داغ دہلوی*"
ضرور ہیں۔
یہاں لوگ
*"ریاض"* 
کرتے کرتے،
*"مومن"* 
بنے 
اور 
ان کے 
*"ذوق"* 
کا یہ عالم تھا کہ
دہلی، 
لکھنو 
اور 
دکن 
باقاعدہ دبستان بن
گئے۔
بلکہ 
*"دبستان اردو"*
بن گئے۔
یہاں ایک سے ایک
*"ولی"* 
بھی ہیں۔
اور 
ایک سے ایک جو اردو کی محبت میں نہ صرف *"سرشار"*
رہتے ہیں۔
بلکہ اس پر 
*"جاں نثار"*
بھی رہتے ہیں۔
اس لیے کسی کی حیثیت *"مجروح"* 
نہ کیجیے۔
 *"شبلی"* 
کو شبلی ہی رہنے دیجیے۔
*"جنید"* 
و 
*"شبلی"* 
نہ بنائیے۔
*"اکبر"* 
اگر الہ آباد میں بے نظیر ہیں۔
 تو 
*"اکبر آباد"* 
میں اپنے 
*"نظیر"*
بھی کچھ کم نہیں۔
تنقید سے کسی کو فرار نہیں۔
بغیر تنقید کہ نہ کوئی 
*"فراز"*
بن سکتا ہے۔
اور 
نہ 
سرفراز !
اردو ادب ہمیشہ ادیبوں 
اور 
شاعروں کا مشکور رہا۔ 
بلکہ وہ شاکر بھی رہا۔
اس نے شاکر ہی نہیں 
*"پروین شاکر"*  جیسی *"خوشبو"* 
بھی دی ہے۔  
اس نے 
*"مسدس حالی"*  بھی دیا اور اس نے نہ جانے کتنے *"سید"* 
بھی دییے جو نہ صرف 
*"سلیمان"* 
ہیں۔
بلکہ 
ان کے پاس تخت سلیمانی بھی ہے جس پر ایک دو سید ہی نہیں بلکہ *"سر سید"*  
بھی بیٹھے۔
 یہاں نہ صرف *"رشید"*
ہیں۔
بلکہ 
*"مشتاق"*
جیسے 
*"یوسفی"* 
بھی ہیں۔
*"پطرس"* جیسے طنزو مزاح کے 
*"بخاری"* 
بھی ہیں۔
یہاں مختلف رنگ ہی نہیں بلکہ *"نارنگ"*
بھی ہیں۔
بلکہ 
*"شمس الرحمن"* جیسے 
*"فاروقی"* 
بھی ہیں۔
 یہاں
*"عبد الماجد"* جیسے صاحب طرز ادیبوں کا ایک دریا آباد ہے۔

یہاں ایک سے ایک *"آزاد"* 
ہیں۔
اور 
ایک سے ایک اعلی شخصیات ہیں ۔۔۔۔۔۔
بلکہ 
*"ابولاعلی"* 
اور 
*"ابو الکلام"* 
بھی ہیں۔

🤲🏻 خدا اردو کی اس فضا کو مزید وسیع کر دے۔
تاکہ اس کا۔۔۔۔  *"فیض"* 
مسلسل جاری رہے اور 
یہ ہمیشہ بلند *"اقبال"* 
اور 
*"غالب"* 
رہے۔
☘🌿🌺🌿☘

🎆🥀🌻🎄🌴🎇🌹🏝️🌹🎇🌴🎄🌻🥀🎆