🎇🎆🎄🎄🤣🤣😎😅😎🤣🤣🎄🎄🎆🎇
جنون شوق آخر عشق کے معیار تک پہنچا..
نکل کرباغ ہستی سے صلیب و دار تک پہنچا..
بدل کر ره گیا یکسر مزاجِ گر دش دو راں..
مرا پائے طلب جب بھی راہ دشوار تک پہنچا..
بس اک جھوٹی تسلی کے سوا تو نے دیا کیا ہے..
امیر شہر جب کوئ ترے دربار تک پہنچا..
دیئے سورج نے طعنے دھوپ نے ہرگام پر روکا..
بڑی مشکل سے میں تو سایہ دیوار تک پہنچا..
بہاروں نے پزیرائ تو کی سب کی گلستاں میں..
کسی نے شاخ گل پائی کوئی تلوار تک پہنچا..
امیر شہر یہ بتلا تری عظمت کا کیا ہو گا..
ہمارا دست وحشت گر تری دستار تک پہنچا..
خسارہ ہی خسارہ اس تجارت میں ملا اے لون..
سجاکر خواب آنکھوں میں جو میں بازار تک پہنچا..
🎇🎆🎄🎄🤣🤣😎😅😎🤣🤣🎄🎄🎆🎇